17 اپریل 2011 - 19:30

ڈپٹی چیف آف اسٹاف جنرل رضا خرم طوسی نے کہا: ہماری فوجی تشخیص و تخمینوں میں سعودی عرب فوجی لحاظ سے برابر کا حریف شمار نہیں ہوتا اسی لئے ہم اس کو میدان میں آنے کی دعوت نہیں دیا کرتے / ہمسایہ ممالک سے لڑنا ہمارے پروگرام میں شامل نہیں ہے تا ہم اپنی اقدار کا تحفظ کرنا جانتے ہیں۔

اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق 18 اپریل "ملٹری دی" کی مناسبت سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ فوجیں دشمن کی فوجی قوت کو تشخیص دے کر اپنی نفری محاذ پر تعینات کیا کرتی ہیں اور علاقے کی بعض حکومتوں کا قد اتنا اونچا نہیں ہے اور ان کی فوجی اہمیت اتنی نہیں ہے کہ ہماری سوچ کو اپنک جانب مبذول کرسکیں اور ہمیں تشویش میں مبتلا کرسکیں۔انھوں نے بعض فوجی دھمکیوں کے بارے میں کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران کی طاقت اس سے کہیں زیادہ ہے کہ حتی عالمی استکبار ہمارے اسلامی نظام کی طرف ٹیڑھی نظر سے دیکھنے کی جرأت کرسکے اور بعض دیگر حکومتیں اس سے کہیں زیادہ چھوٹی ہیں کہ ہمیں دہمکی دینے کی جسارت کرسکیں۔ انھوں نے آٹھ سالہ مقدس دفاع کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ مسلط کردہ جنگ میں دنیا کے اکثر ممالک ہمارے دشمن سے ملے ہوئے تھے لیکن ہم نے اپنی بالکل نئی تشکیل شدہ فورسز کے ذریعے انہیں ایسا جواب دیا کہ وہ اپنی سازشوں میں کامیاب نہ ہوسکے۔ انھوں نے بعض حکومتوں کی حالیہ دھمکیوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: ان کی کوشش یہ ہے کہ اپنے آپ کو اسلامی جمہوریہ ایران کے رقیب اور مد مقابل کے عنوان سے متعارف کرائیں لیکن ہمسایہ ممالک سے لڑنا ہمارے پروگرام میں شامل نہیں ہے تا ہم اپنی اقدار کا تحفظ کرنا جانتے ہیں۔ جنرل طوسی نے کہا: ہمارا پیغام تسلسل سے یہی ہے کہ ہم دنیا کی تمام اقوام کے ساتھ دوست اور پرامن رہنا چاہتے ہیں لیکن ہم دفاع کے لئے ہر دم تیار ہیں اور ہمارا عقیدہ ہے کہ ہمیں اپنی اقدار کا دفاع کرنا چاہئے اور ہم کسی کو بھی اپنی حدود پر جارحیت کی اجازت نہیں دیں گے۔ انھوں نے کہا کہ ہم نے دفاعی انتظامات میں اپنے مد مقابل فوجوں میں سعودی عرب کی فوج کو کوئی جگہ نہیں دی ہے کیونکہ یہ فوج ایسی نہیں ہے جس کو ہمارے ڈیفنس ڈاکٹرین میں جگہ دی جاسکے۔  .........../110